حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام خمینیؒ کی برسی کے موقع پر ممبرا، ممبئی میں منعقدہ ایک تقریب میں مقررین نے انقلابِ اسلامی، ثقافتِ شہادت، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور ولایتِ فقیہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رہبر شہید مؤمنوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور ان کا پیغام آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔
ایرانی کلچر ہاؤس کے مطابق، انقلابِ اسلامی ایران کے بانی حضرت امام خمینیؒ اور حالیہ مسلط کردہ جنگ کے شہداء کی یاد میں ممبرا کے سُہانا کمپاؤنڈ امام بارگاہ میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں ایران کے قونصل جنرل، ثقافتی مشیر، علماء اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
ایران کے ثقافتی مشیر اور ممبئی میں ایرانی کلچر ہاؤس کے ذمہ دار محمد رضا فاضل نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ہندوستان کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں مجالس اور تقریبات منعقد ہوئیں جن کے ذریعے عوام نے امامِ شہید اور شہدائے جنگ رمضان سے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کیا۔ انہوں نے امام خمینیؒ اور امامِ شہید کو عصرِ حاضر میں اسلامی تعلیمات کا عملی نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی شجاعت، اخلاص اور استقامت آئندہ نسلوں کے لیے دائمی نمونہ ہے۔
ممبئی میں ایران کے قونصل جنرل سعید رضا مسیب مطلق نے کہا کہ انقلابِ اسلامی صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر کے مظلوموں، آزاد منش انسانوں اور مستضعفین کی امید ہے۔ انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو قرآنی تعلیمات کا روشن مصداق قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایثار اور شہادت کی ثقافت ہمیشہ امتِ مسلمہ کی عزت و سربلندی کی ضامن رہی ہے۔
ممبرا کے ممتاز سنی عالم مفتی اشرف شیخ نے امتِ مسلمہ کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے پیروکار ہونے کے ناطے ظلم اور طاغوت کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائیں گے۔ انہوں نے ملتِ ایران کی مزاحمت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس میدان میں سرخرو ہوگا اور قائدِ شہید مؤمنوں کے دلوں میں زندہ ہیں، جس طرح قرآنِ کریم اولیائے الٰہی کی دائمی حیات کا تذکرہ کرتا ہے۔
مہاراشٹرا شیعہ علماء بورڈ کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین سید اسلم رضوی نے کہا کہ آج دنیا کے بیدار ضمیر ظلم و ناانصافی کے خلاف پہلے سے زیادہ حساس ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واقعۂ کربلا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح امام حسین علیہ السلام نے ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا، اسی طرح ملتِ ایران بھی اپنے اصولوں اور اہداف سے دستبردار نہیں ہوگی۔
تقریب کے دیگر مقررین نے انقلابِ اسلامی کی فکر، دینی اقدار کے تحفظ میں علماء کے کردار، عصرِ غیبت میں ولایتِ فقیہ کی اہمیت اور دین و مقدسات کے دفاع میں مسلمانوں کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔
تقریب کے موقع پر حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا مرزا علی اکبر کربلائی کی اردو کتاب "امیرالمؤمنین اور مؤمنین" کی رونمائی بھی کی گئی۔ تقریباً 300 صفحات پر مشتمل یہ کتاب امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی سیرت، فضائلِ اخلاقی اور حیاتِ مبارکہ کے اہم واقعات پر مشتمل ہے، جسے حاضرین نے خوب سراہا۔ آخر میں شرکاء کو رہبرِ انقلاب حضرت آیت اللہ مجتبیٰ خامنہایؒ کی تصاویر بھی پیش کی گئیں۔









آپ کا تبصرہ